Monday, 17 May 2021

زندگی کی تیز اتنی اب روانی ہو گئی

 زندگی کی تیز اتنی اب روانی ہو گئی

بات جو سوچی وہ کہنے تک پرانی ہو گئی

عام سی اک بات تھی اپنی محبت بھی مگر

یہ بھی جب لوگوں تلک پہنچی کہانی ہو گئی

خوف کی پرچھائیاں ہیں ہر در و دیوار پر

اپنے گھر پر جانے کس کی حکمرانی ہو گئی

زندگی کے بعد اختر زندگی اک اور ہے

موت بھی جیسے فقط نقلِ مکانی ہو گئی


اختر امان

No comments:

Post a Comment