یہ وقتِ صبح ہے یا وقتِ شام، بھُول گیا
جو اس کی آنکھوں کو دیکھا تو جام بھول گیا
کیا جو اس نے مجھے اک اشاره ابرو کا
جو کام کرنے چلا تھا وه کام بھول گیا
دعائے خیر پہ اس نے بلایا اپنوں کو
سبھی تھے یاد اسے، اک غلام بھول گیا
تمام دوسری باتیں تو اس سے کر آئے
اسے جو دينا تھا دل کا پیام، بھول گیا
جو پیٹ خالی ہو، کب ذہن کام کرتا ہے
بڑهے جو فاقے حلال و حرام بھول گیا
میں جس کی مدح میں کہتا رہا سدا غزلیں
وه آیا سامنے جب، تو کلام بھول گیا
شکستہ حال میں دیکھا جب اپنے دشمن کو
جو میرے دل میں تھا سب انتقام بھول گیا
نعیم شکل تو اس کی بے اب بھی یاد مجھے
مگر میں اس پری پیکر کا نام بھول گیا
نعیم چشتی
No comments:
Post a Comment