Sunday, 9 May 2021

کچھ لوگ تو اتنی بھی مروت نہیں کرتے

 کچھ لوگ تو اتنی بھی مروت نہیں کرتے

ملنے کی کبھی خود سے بھی زحمت نہیں کرتے

اس بار تو رستے بھی مجھے روک رہے ہیں

دیوار و در و بام ہی اُلفت نہیں کرتے

بازار میں اب کون خریدار ہے اپنا

اتنی بھی زیادہ ابھی قیمت نہیں کرتے

کیا ہو گا سر شام جو ہم ہوں گے نہ گھر میں

یہ سوچ کے ہم شہر سے ہجرت نہیں کرتے

کہتے ہیں فقیروں کی فضیلت پہ قصائد

ہم آج بھی حکام کی بیعت نہیں کرتے

سجدوں کے عوض خلدِ بریں مانگنے والو

کیوں اپنے مکانوں کو ہی جنت نہیں کرتے

چھپ جاتے ہیں آغوش میں سورج کی ہمیشہ

یہ چاند ستارے کبھی رحلت نہیں کرتے

سوکھے ہوئے پیڑوں پہ کوئی پھول نہیں ہے

کیوں ان سے پرندے بھی محبت نہیں کرتے

دیوار تو اٹھتی ہوئی دیکھیں گے گھروں میں

وہ لوگ جو بچوں کو نصیحت نہیں کرتے


وفا نقوی

No comments:

Post a Comment