Wednesday, 8 December 2021

شور اتنا ہے کہ تنہائی ہو محفل جیسے

 شور اتنا ہے کہ تنہائی ہو محفل جیسے

کسی طوفان کی زد میں کوئی ساحل جیسے

اسے دیکھا تو خیالوں میں جو منزل تھی گئی

وہ ہی تھا میری تمناؤں کا حاصل جیسے

میں تو سمجھا تھا کہ ہم دونوں کا جذبات ہے نام

آج لگتے ہو مگر تم کسی عاقل جیسے

ہمہ تن گوش ہوں آواز پہ اس کی ایسے

میرے سینے میں دھڑکتا ہو تِرا دل جیسے

پہلی منزل پہ ہی قربان ہوا یوں عارف

طے ہوئے منزل عرفاں کے مراحل جیسے


منظور عارف

No comments:

Post a Comment