کیوں لیے سب عناد پھرتے ہیں
اک سنبھالے فساد پھرتے ہیں
دوست میرے کوئی نہیں اچھا
سب یہاں پر مفاد پھرتے ہیں
میرے بھائی نہ پوچھ مجھ سے تو
چھپی ہر ہاں میں ایک ناں کیوں ہے
سب لیے کیا "تضاد" پھرتے ہیں
اک "یقیں" تھا "کلیم" جو ٹوٹا
اس لیے "بے مراد" پھرتے ہیں
محمد کلیم
No comments:
Post a Comment