Thursday, 16 July 2020

کیوں لیے سب عناد پھرتے ہیں

کیوں لیے سب عناد پھرتے ہیں
اک سنبھالے فساد پھرتے ہیں
دوست میرے کوئی نہیں اچھا
سب یہاں پر مفاد پھرتے ہیں
میرے بھائی نہ پوچھ مجھ سے تو
کھوکھلے "اعتقاد" پھرتے ہیں
چھپی ہر ہاں میں ایک ناں کیوں ہے
سب لیے کیا "تضاد" پھرتے ہیں
اک "یقیں" تھا "کلیم" جو ٹوٹا 
اس لیے "بے مراد" پھرتے ہیں

محمد کلیم

No comments:

Post a Comment