میں بدحواس ہوں، اس بات کا خیال رہے
بھرا گلاس ہوں، اس بات کا خیال رہے
یوں ہنستے ہنستے کسی بات پر بھی رو دوں گی
ذرا اداس ہوں،۔ اس بات کا خیال رہے
نہیں نہیں یہ ضروری نہیں کہ ٹھنڈی ہو
اب اس کو چھوڑ، نظر موڑ، مجھ سے جوڑ کہ میں
نئی کپاس ہوں،۔ اس بات کا خیال رہے
اگر وہ دھیان میں آئی ہے پھر تُو آنکھ نہ کھول
ابھی میں پاس ہوں، اس بات کا خیال رہے
وہ ذائقہ ہوں جو تا دیر رہنے والا ہے
شدید پیاس ہوں، اس بات کا خیال رہے
مجھے نہ چھُو کہ تیرے ہاتھ ہی جھلس جائیں
ہرا لباس ہوں، اس بات کا خیال رہے
یہ کتنی بار بتاؤں کہ مت گنوا مجھ کو
میں تجھ کو راس ہوں، اس بات کا خیال رہے
جو تجھ کو چائے کی پیالی میں مل نہیں سکتی
وہی مٹھاس ہوں، اس بات کا خیال رہے
نہیں ہوں میں کوئی سیتا کہ رام پوجوں گی
وفا شناس ہوں، اس بات کا خیال رہے
جو قیمتی بھی ہے، انجیل بھی، مقدس بھی
وہ اسمِ خاص ہوں، اس بات کا خیال رہے
انجیل صحیفہ
No comments:
Post a Comment