تجلیوں کا نیا دائرہ بنانے میں
مِرے چراغ لگے ہیں ہوا بنانے میں
مِری نگاہ میں وہ شخص آدمی بھی نہیں
جسے لگا ہے زمانہ "خدا" بنانے میں
ابھی انہیں نہ پریشاں کرو خدا کے لیے
اڑے تھے ضد پہ کہ سورج بنا کے چھوڑیں گے
پسینے چھوٹ گئے اک "دِیا" بنانے میں
یہ چند لوگ جو بستی میں سب سے اچھے ہیں
انہی کا ہاتھ ہے مجھ کو برا بنانے میں
راحت اندوری
No comments:
Post a Comment