Thursday, 23 July 2020

سیپ مٹھی میں ہے آفاق بھی ہو سکتا ہے

سیپ مٹھی میں ہے، آفاق بھی ہو سکتا ہے
اور اگر چاہوں تو یہ خاک بھی ہو سکتا ہے
یہ جو معصوم سا ڈر ہے، کسی بچے جیسا
ایسے حالات میں سفاک بھی ہو سکتا ہے
آؤ اس تیسرے نکتے پہ بھی کچھ غور کریں
ہم جسے جفت کہیں، طاق بھی ہو سکتا ہے
وجد میں رقص تو بے خوف کیا جاتا ہے
ہو اگر عشق تو بے باک بھی ہو سکتا ہے
ہجر ناسور ہے چپ چاپ ہی جھیلو اس کو
آہ و زاری سے خطرناک بھی ہو سکتا ہے
یہ جو سر سبز سا لگتا ہے امیدوں کا شجر
رُت بدلنے پہ یہ خاشاک بھی ہو سکتا ہے
تو ابھی بھیج دے اُس پار سے رحمت کوئی
میں یہ سنتی ہوں کرم ڈاک بھی ہو سکتا ہے
وہ جو کوسوں تجھے پھیلا ہوا آتا ہے نظر
وہ سمندر میری پوشاک بھی ہو سکتا ہے
یہ ساہ بخت اسے ڈھونڈنے لگ جائیں اگر
اِن کو پھر نور کا ادراک بھی ہو سکتا ہے
میں جو مٹی سے خدا اور بنانا چاہوں
آسماں میرے لیے چاک بھی ہو سکتا ہے
کیوں ناں انجیل دوبارہ سے اتاری جائے
کوئی عیسیٰ کی طرح پاک بھی ہو سکتا ہے

انجیل صحیفہ

No comments:

Post a Comment