Trade Norms
میں سب گلابوں پہ، نیلی جھیلوں پہ ہونٹ رکھ لوں
تو سانس آئے
میں نگری نگری میں قریہ قریہ یونہی بھٹک لوں
تو خواب آئے
میں اپنی پیاسی زبان سے اک دن شراب چکھ لوں
میں اپنی خالی ہتھیلیوں سے یہ چاند ڈھک لوں
تو نیند آئے
ں میں کالی راتوں میں بجلیوں سی ذرا چمک لو
تو موت آئے
تیرے سمندر کے جل سے سارا بدن نمک لو توں
تو سحر آئے
گھنیرے جنگل میں آگ بن کر کبھی بھڑک لوں
تو جوگ آئے
میں جگنو بن کر میں تتلی بن کر ذرا چہک لوں
تو کیف آئے
قندیل بدر
No comments:
Post a Comment