Thursday, 23 July 2020

ابھی کچھ کام باقی ہے

چوتھا دن 

ابھی کچھ کام باقی ہے
ابھی سورج پہ پہلا پاؤں رکھنا ہے
فلک کا ریشمی نیلا دوپٹہ چاک کرنا ہے
خدا سے بات کرنی ہے
اک ایسی رات کرنی ہے

جہاں سورج ستارے ہوں
وہ نورانی نظارے ہوں
نہا کر جن میں سب انسان ایسی آگ ہو جائیں
فرشتے راکھ ہو جائیں
ابھی تو چاند کی قاشیں بنانی ہیں
درختوں پر لگانی ہیں
پرندوں کو وہ سُر بھی تو سکھانے ہیں
صحیفوں میں خدا نے جو نہیں لکھے
ابھی جیون میں تیرے نام کی وہ شام باقی ہے
جہاں دھرتی میری ہو گی
جہاں امبر میرا ہو گا
ابھی جانا نہیں ہو گا
ابھی تو عشق کی تکمیل ہونی ہے
کہانی نامکمل ہی سہی تمثیل ہونی ہے

قندیل بدر

No comments:

Post a Comment