Thursday, 23 July 2020

مٹی کی ہانڈی چولہے پر رکھی ہے

نروان

مٹی کی ہانڈی چولہے پر رکھی ہے
اس کو پکنے میں کئی سال لگ جاتے ہیں
مٹی گوندھنا ہر ایک کے بس کا روگ نہیں
چاک رکنا نہیں چاہیے
آنچ بڑھنی نہیں چاہیے

سیسہ سونا بننے میں وقت لیتا ہے
کوزہ گری بے صبری سے سیکھی نہیں جا سکتی
دل زمین کی حرکت سمجھ لے تو روح کائنات کے ساتھ دھڑکنے لگتی ہے
نیند میں بھی بیدار رہنا پڑتا ہے
پلکیں جھپکنے میں بھی کئی ستارے ٹوٹ کر گر جاتے ہیں
جب تک ہواؤں پر لکھی نظمیں پڑھنا سیکھ نہیں لیتے
تب تک نروان مکمل نہیں ہوتا

قندیل بدر

No comments:

Post a Comment