نروان
مٹی کی ہانڈی چولہے پر رکھی ہے
اس کو پکنے میں کئی سال لگ جاتے ہیں
مٹی گوندھنا ہر ایک کے بس کا روگ نہیں
چاک رکنا نہیں چاہیے
آنچ بڑھنی نہیں چاہیے
سیسہ سونا بننے میں وقت لیتا ہے
کوزہ گری بے صبری سے سیکھی نہیں جا سکتی
دل زمین کی حرکت سمجھ لے تو روح کائنات کے ساتھ دھڑکنے لگتی ہے
نیند میں بھی بیدار رہنا پڑتا ہے
پلکیں جھپکنے میں بھی کئی ستارے ٹوٹ کر گر جاتے ہیں
جب تک ہواؤں پر لکھی نظمیں پڑھنا سیکھ نہیں لیتے
تب تک نروان مکمل نہیں ہوتا
قندیل بدر
No comments:
Post a Comment