میں کوئی دُھن لے کے آؤں، تُو اسے الفاظ دے
انگلیاں تھرکا لبوں پر، گیت گا، اور ساز دے
رنگ میرا گندمی سا، بال گھنگرالے سے ہوں
پھول لہجہ، دیپ آنکھیں، مشرقی انداز دے
رات میں چھت پر کھڑی یہ چاند سے کہنے لگی
آ، مجھے دل سے لگا، تنہائیوں کے راز دے
نیلے سیارے پہ آ، کافی پئیں، باتیں کریں
روبرو اک شام، ملنے کا مجھے اعزاز دے
ہے عجب خواہش کہ میں انجام پہلے دیکھ لوں
تُو کہانی ختم کر، اور پھر اِسے آغاز دے
انجیل صحیفہ
No comments:
Post a Comment