دل کی بستی میں ملا ہے یار کا مسکن مجھے
یہ اشارہ دے گئی ہے قلب کی دھڑکن مجھے
عشق نے پیالا پلایا موت کا آغاز میں
راس آیا زندگی کا بعد میں گلشن مجھے
روشنی منزل محبت چاند سورج آسماں
مل گئے ہیں ان کے در پر سب بڑے خرمن مجھے
یہ حقیقت منکشف اب ہو گئی ہے آپ پر
اپنے مظہر کا بنایا کس قدر درپن مجھے
کیا بہائے گا تلاطم میری کشتی دوستو
دے رہا ہے جب سہارا ان کا یہ دامن مجھے
بلال احمد
No comments:
Post a Comment