کشمیر بنے کیوں پاکستان
شکر خدا کا
ملک تو حاصل کیا ہے ہم نے
جس کا نام ہے پاکستان
جو ہم سب کی ہے پہچان
لیکن اِس میں بسنے والے
جتنے ہیں انسان
کیا سب ہیں آزاد؟
یا اتنے سالوں کے بعد
آج بھی ہیں برباد
بے بس لوگوں کی آنکھوں میں
خواب سجے ہیں مستقبل کے
بھوک آنگن میں ناچ رہی ہے
چہروں پر ہیں جُھریاں
ہاتھوں میں کشکول
ننگے پاؤں چلے ہوئے ہیں
پتھریلے رستوں پر
منزل اب تک ملی نہیں ہے
آس کی کونپل کِھلی نہیں ہے
کتنی نسلیں ختم ہوئی ہیں
آزادی کے نعروں پر
لیکن جو آزاد تھے پہلے
اب بھی ہیں وہ آزاد
برسوں بعد بھی اُن کا کھیل ابھی ہے جاری
لگتا ہے کبھی ختم نہ ہوگی اُن کی باری
باقی لوگوں کے ہاتھوں میں
زنجیریں ہیں آزادی کی
اور لبوں پر تالے
بند کمرے کی چھت پر جیسے لگے ہوئے ہوں جالے
جس مقصد کے لئے بنا تھا پاکستان
کیا یہ وہی ہے پاکستان؟
کیا ہم نے آزاد کِیا ہے لوگوں کو؟
کیا ہم نے آباد کیا ہے لوگوں کو؟
کیا ہم نے مضبوط کیا ہے پاکستان؟
اگر نہیں ہے ایسا
تو پھر جنت جیسی وادی
کشمیر بنے کیوں پاکستان؟
ایک غلامی سے چھٹکارا
اُس کے بعد اک نئی غلامی
اپنے حقوق کی خاطر پھر سب
بات کریں گے کس سے؟
اپنی آزادی کی خاطر
جنگ لڑیں گے کس سے؟
جلتا، روتا، شور مچاتا خطۂ کشمیر
خوابوں کی تعبیر
اُن کی ہے جاگیر
جنہوں نے اپنی نسلوں کو قربان کیا
وقتی مفاد کو چھوڑا
اور اپنا نقصان کیا
اتنے برس ہونے کو آئے
پاکستان آزاد بھی ہو کر
نہیں بنا جب پاکستان
تو کشمیر بنے کیوں پاکستان؟
کیونکہ ملک کی آزادی سے
لوگ نہیں ہوتے آزاد
ظہور چوہان
No comments:
Post a Comment