Monday, 6 December 2021

ابھی سمجھائیں کیا تم کو ابھی تم عشق میں ہو

 ابھی سمجھائیں کیا تم کو ابھی تم عشق میں ہو

ابھی تو بس دعائیں لو ابھی تم عشق میں ہو

بھلے اپنے ہی گھر جانا ہے پر بُھولو گے رستہ

کسی کو ساتھ میں رکھو، ابھی تم عشق میں ہو

نہیں مانے گا کوئی بھی بُرا بالکل ذرا بھی

ابھی تم چاہے جو کہہ دو ابھی تم عشق ہو

کوئی سمجھا بجھا کے راہ پر پھر لے نہ آئے

کسی کے پاس مت بیٹھو ابھی تم عشق میں ہو

تمہارے ہاتھ میں جلتی رہے سگریٹ مسلسل

کلیجے کو ذرا پھونکو، ابھی تم عشق میں ہو

وہ پرسوں بھی نہیں آیا نہیں آیا وہ کل بھی

گنو مت راستہ دیکھو ابھی تم عشق میں ہو


پنکج سبیر

No comments:

Post a Comment