Saturday, 9 April 2022

اس سے پہلے کہ سارے شک جائیں

 اس سے پہلے کہ سارے شک جائیں 

دوست اچھی طرح بھڑک جائیں 

چل تیری آنکھ کی تلاشی لیں

چل ذرا تیرے خواب تک جائیں 

ہار جائیں انا کی بازی 

دونوں پلکیں اگر جھپک جائیں 

چاند خاموشی چاہتا ہو، مگر 

ہاتھ میں چوڑیاں کھنک جائیں 

زندگی امتحان ہے جس میں 

سارے سیکھے ہوئے سبق جائیں 

باپ دستار پاؤں میں رکھ دے

اور بیٹی کے سارے حق جائیں 

مجھ کو معلوم ہے سفر میرا

راستوں سے کہو بھٹک جائیں 

دیکھنے سبز حیرتوں کے شجر

کسی ویران سی سڑک جائیں 


انجیل صحیفہ

No comments:

Post a Comment