اس سے پہلے کہ سارے شک جائیں
دوست اچھی طرح بھڑک جائیں
چل تیری آنکھ کی تلاشی لیں
چل ذرا تیرے خواب تک جائیں
ہار جائیں انا کی بازی
دونوں پلکیں اگر جھپک جائیں
چاند خاموشی چاہتا ہو، مگر
ہاتھ میں چوڑیاں کھنک جائیں
زندگی امتحان ہے جس میں
سارے سیکھے ہوئے سبق جائیں
باپ دستار پاؤں میں رکھ دے
اور بیٹی کے سارے حق جائیں
مجھ کو معلوم ہے سفر میرا
راستوں سے کہو بھٹک جائیں
دیکھنے سبز حیرتوں کے شجر
کسی ویران سی سڑک جائیں
انجیل صحیفہ
No comments:
Post a Comment