مجھ سے نفرت شدید کرتا رہا
کام اپنا یزید کرتا رہا
ذائقہ آب کا نہیں چکھا
اپنی مٹی پلید کرتا رہا
مجھ سے چِڑتا رہا وہ خوش آمیز
میں محبت مزید کرتا رہا
میں دِکھاتا رہا گلاب اسے
بوئے گْل کو نوید کرتا رہا
جائیے، کیجیے، وظیفۂ عشق
جنگلوں میں فرید کرتا رہا
پھول کا رنگ، خواب کی خوشبو
پانیوں سے کشید کرتا رہا
میں ہی زندہ رہا یہاں کامی
مجھ کو دشمن شہید کرتا رہا
کامی شاہ
No comments:
Post a Comment