Saturday, 9 April 2022

مجھ سے نفرت شدید کرتا رہا

 مجھ سے نفرت شدید کرتا رہا

کام اپنا یزید کرتا رہا

ذائقہ آب کا نہیں چکھا

اپنی مٹی پلید کرتا رہا

مجھ سے چِڑتا رہا وہ خوش آمیز

میں محبت مزید کرتا رہا

میں دِکھاتا رہا گلاب اسے

بوئے گْل کو نوید کرتا رہا

جائیے، کیجیے، وظیفۂ عشق

جنگلوں میں فرید کرتا رہا

پھول کا رنگ، خواب کی خوشبو

پانیوں سے کشید کرتا رہا

میں ہی زندہ رہا یہاں کامی

مجھ کو دشمن شہید کرتا رہا


کامی شاہ

No comments:

Post a Comment