اس نے پاؤں دھرے جو پانی میں
جھیل بھی آ گئی روانی میں
اس کا جوبن ہے تاب سے باہر
قہر ڈھاتا ہے وہ جوانی میں
اس کے عارض کی بات کیوں نہ کروں
وہ بھی شامل ہیں مدح خوانی میں
اس کے ہونٹوں کی بات میں نے تو
یونہی کہہ ڈالی تھی نادانی میں
آج بھی یاد ہیں مجھے وہ پل
اس کو دیکھا تھا رُت سہانی میں
حُسن اس کا بھی عارضی ہے یار
کون رہتا ہے دنیا فانی میں
اس کے اوصاف کم نہیں ہیں وقاص
کیسے آئیں گے شعر خوانی میں
احمد وقاص
No comments:
Post a Comment