Saturday, 9 April 2022

یک زباں یک نگاہ کیا ہوتا

 یک زباں، یک نگاہ کیا ہوتا

غیر تھا، خیر خواہ کیا ہوتا

جب نہ اپنا وہ بن سکا اپنا

دوسرا میری چاہ کیا ہوتا

اپنے ہونے سے پھر گیا ہوں میں

کوئی میرا گواہ کیا ہوتا

بعد تیرے بھی جی رہا ہوں میں

اور بڑھ کے نباہ کیا ہوتا

پائی بے جرم ہر سزا میں نے

گر جو کرتا گناہ کیا ہوتا

اپنے ملبے تلے دبا ہوں میں

اور زیادہ تباہ کیا ہوتا

یونہی محفل سے اٹھ گیا ابرک

شبِ غم واہ واہ کیا ہوتا


اتباف ابرک

No comments:

Post a Comment