ذات کا راز کھو چکا ہوں میں
گمشدہ چیز ہو چکا ہوں میں
فائدہ کچھ نہیں پلٹنے کا
وقت پہلے ہی کھو چکا ہوں میں
سامنے آئینے کے آتے ہی
خاک سے عکس ہو چکا ہوں میں
بوجھ مٹی کا رہ گیا ہے فقط
روح کا بوجھ ڈھو چکا ہوں میں
آپ دیوار کو گرائیں جناب
اپنے سائے کو رو چکا ہوں میں
مجھ کو اپنا پتا نہیں معلوم
اتنا تقسیم ہو چکا ہوں میں
گوشوارہ کبھی نہیں رکھا
کتنی سانسیں پرو چکا ہوں میں
اسحاق وردگ
No comments:
Post a Comment