Saturday, 9 April 2022

ذات کا راز کھو چکا ہوں میں

 ذات کا راز کھو چکا ہوں میں

گمشدہ چیز ہو چکا ہوں میں

فائدہ کچھ نہیں پلٹنے کا

وقت پہلے ہی کھو چکا ہوں میں

سامنے آئینے کے آتے ہی

خاک سے عکس ہو چکا ہوں میں

بوجھ مٹی کا رہ گیا ہے فقط

روح کا بوجھ ڈھو چکا ہوں میں

آپ دیوار کو گرائیں جناب

اپنے سائے کو رو چکا ہوں میں

مجھ کو اپنا پتا نہیں معلوم

اتنا تقسیم ہو چکا ہوں میں

گوشوارہ کبھی نہیں رکھا

کتنی سانسیں پرو چکا ہوں میں


اسحاق وردگ

No comments:

Post a Comment