یہیں بدن میں کہیں، دل کے پاس چُبھ گئی ہے
تمہاری بات سے شہ رگ میں سانس چبھ گئی ہے
اب اتنی ڈھیر نزاکت کا کیا کرے کوئی؟
کسی کے پاؤں کے تلوؤں میں گھاس چبھ گئی ہے
محبتوں سے بھرے، چھوٹے گھر کی لڑکی کو
تمہارے لہجے کی ہائی کلاس چبھ گئی ہے
میں روز پھونک رہی تھی خوشی تعلق میں
مگر اب آنکھ میں رشتے کی پھانس چبھ گئی ہے
ہے چاند رات، مگر آج پھر مِرے دل میں
یہ زرد چہرہ، یہ لڑکی اداس، چبھ گئی ہے
مچل کے ایسے لپٹنے لگی ہیں ساحل سے
کہ جیسے لہروں کو صحرا کی پیاس چبھ گئی ہے
یہ کیا کہ سُونی کلائی میں عید کی چُوڑی
جو تُو نے بھیجی نہیں، بن کے آس چبھ گئی ہے
عجیب بات ہے ریشم کے نرم کیڑے کو
زمیں پہ جتنی اُگی ہے کپاس چبھ گئی ہے
اب ان کے ذہنوں پر انجیل ہو رقم کیسے؟
وہ جن کو لفظوں کی ساری مٹھاس چبھ گئی ہے
انجیل صحیفہ
No comments:
Post a Comment