آنکھوں کو آنسوؤں میں بھگونے کے بعد بھی
خشکی ذرا نہ کم ہوئی رونے کے بعد بھی
کس سے کہوں کہ جاگتا رہتا ہوں رات بھر
کھا کر دوائیں نیند کی سونے کے بعد بھی
اب تک ہے اتنا جسم کا ملبہ بچا ہوا
پینتیس سال جسم کو ڈھونے کے بعد بھی
حیرت ہے کتنے لوگ مِرے دل میں آ گئے
خالی پڑے ہوئے کسی کونے کے بعد بھی
مجھ میں کسی کے حسن کی سرسوں نہ کِھل سکی
خود کو زمینِ عشق میں بونے کے بعد بھی
میری قبا کہ تجھ سے مکمل نہ ہو سکی
اے عمر! اتنا سینے پرونے کے بعد بھی
کھوتا ہوں ایسے شخص کو ہر روز کیا کہوں
ملتا ہوں جس کو روز میں کھونے کے بعد بھی
مجھ سے مہ و نجوم کے دھبے نہ مٹ سکے
چادر شبِ سیاہ کی دھونے کے بعد بھی
وہ شخص امیر امام ہوا اور مر گیا
جب ہو نہیں سکا کبھی ہونے کے بعد بھی
امیر امام
No comments:
Post a Comment