Thursday, 9 December 2021

آنکھوں کو آنسوؤں میں بھگونے کے بعد بھی

 آنکھوں کو آنسوؤں میں بھگونے کے بعد بھی

خشکی ذرا نہ کم ہوئی رونے کے بعد بھی

کس سے کہوں کہ جاگتا رہتا ہوں رات بھر

کھا کر دوائیں نیند کی سونے کے بعد بھی

اب تک ہے اتنا جسم کا ملبہ بچا ہوا

پینتیس سال جسم کو ڈھونے کے بعد بھی

حیرت ہے کتنے لوگ مِرے دل میں آ گئے

خالی پڑے ہوئے کسی کونے کے بعد بھی

مجھ میں کسی کے حسن کی سرسوں نہ کِھل سکی

خود کو زمینِ عشق میں بونے کے بعد بھی

میری قبا کہ تجھ سے مکمل نہ ہو سکی

اے عمر! اتنا سینے پرونے کے بعد بھی

کھوتا ہوں ایسے شخص کو ہر روز کیا کہوں

ملتا ہوں جس کو روز میں کھونے کے بعد بھی

مجھ سے مہ و نجوم کے دھبے نہ مٹ سکے

چادر شبِ سیاہ کی دھونے کے بعد بھی

وہ شخص امیر امام ہوا اور مر گیا

جب ہو نہیں سکا کبھی ہونے کے بعد بھی


امیر امام

No comments:

Post a Comment