Thursday, 9 December 2021

اک نقش سطح آب رواں ہے یہ زندگی

 اک نقشِ سطحِ آبِ رواں ہے یہ زندگی

اے موجِ تیز گام! کہاں ہے یہ زندگی؟

کل تک تھی اپنے آپ پہ نازاں یہ زندگی

کیوں آج خود پہ نوحہ کناں ہے یہ زندگی

شعلے میں شمع کے جو مسلسل تھی اک صدا

پروانے کہہ رہے تھے؛ یہاں ہے یہ زندگی

جن کے بیاں کو قُفل پڑے ہیں زبان پہ

ان کُہنہ حسرتوں کا نشاں ہے یہ زندگی

کروبئ اجل کو ذرا دے کوئی صدا

شانوں پہ اب تو بارِ گراں ہے یہ زندگی

دو بھی قدم ٹھہرنا جہاں پر محال ہے

ایک ایسا کاروانِ رواں ہے یہ زندگی

مشہود میں ہو فرق نہ شاہد سے کچھ جہاں

ایسے مشاہدے میں نہاں ہے یہ زندگی

ہے پائمال کوششِ روزینۂ بقا

کاندھے پہ ایک سنگِ گراں ہے یہ زندگی

عاطف تجھے گماں تھا یقیں زندگی میں ہو

آخر ہوا یقیں کہ؛ گماں ہے یہ زندگی


عاطف علی

No comments:

Post a Comment