Thursday, 9 December 2021

ہو سکے تو دل صد چاک دکھایا جائے

 ہو سکے تو دل صد چاک دکھایا جائے

اب بھری بزم میں احوال سنایا جائے

ہائے اس جانِ تمنا سے نبھے گی کیسے

ہم سے تو راز نہ اک روز چھپایا جائے

اپنا غم ہو تو اسے کہہ کے سکوں مل جائے

اس کا غم ہو تو کسے جا کے سنایا جائے

رات بھر جن کی ضیا سے رہے روشن کمرے

صبح دم ان ہی چراغوں کو بجھایا جائے

دھیان میں جس کے کئی جاگتی راتیں گزریں

راحت اک رات اسے بھی تو جگایا جائے


امین راحت چغتائی

No comments:

Post a Comment