Wednesday, 13 October 2021

کیسے ممکن تھا خوشبو بکھرتی نہیں

 بے نیازی


کیسے ممکن تھا خوشبو بکھرتی نہیں

ہم نے لکھا نہیں

کیسے ممکن تھا 

جگنو زرا ہاتھ بھر کی مسافت پہ ہوں

تیرگی بھی رہے

ہم نے چاہا نہیں

کیسے ممکن تھا اک آسماں کے تلے

سانس لیتے رہیں

رابطہ بھی رہے

ہاں مگر فاصلہ ہاتھ بھر کا سمٹ نہ سکے

ہم نے سوچا نہیں

ہم نے خوابوں کو رستہ دیا ہی نہیں


صدف زبیری

No comments:

Post a Comment