بے نیازی
کیسے ممکن تھا خوشبو بکھرتی نہیں
ہم نے لکھا نہیں
کیسے ممکن تھا
جگنو زرا ہاتھ بھر کی مسافت پہ ہوں
تیرگی بھی رہے
ہم نے چاہا نہیں
کیسے ممکن تھا اک آسماں کے تلے
سانس لیتے رہیں
رابطہ بھی رہے
ہاں مگر فاصلہ ہاتھ بھر کا سمٹ نہ سکے
ہم نے سوچا نہیں
ہم نے خوابوں کو رستہ دیا ہی نہیں
صدف زبیری
No comments:
Post a Comment