دلِ بے کار سے بیزار ہوئے پھرتے ہیں
اور یہ زعم کہ فنکار ہوئے پھرتے ہیں
اتنے برسوں کی رفاقت کا صِلہ ہے جو ہم
ایک دُوجے سے خبردار ہوئے پھرتے ہیں
ریگزاروں کی مسافت کی تھکاوٹ کے سبب
ہم سمندر کے طرفدار ہوئے پھرتے ہیں
یہ تِری چڑھتی جوانی کا اثر ہے کہ یہ لوگ
جوق در جوق وفادار ہوئے پھرتے ہیں
جب کبھی وقت ملے کارِ جہاں داری سے
ہم سے ملنا کہ عزادار ہوئے پھرتے ہیں
بے حجابانہ تِرے سامنے آنے کے سبب
دیکھنے والے گنہ گار ہوئے پھرتے ہیں
ہم محبت کی روایات سے بھاگے ہوئے لوگ
اپنی مستی میں سمجھدار ہوئے پھرتے ہیں
جو مِری راہ کے پتھر بنے گمنامی میں
دانیال آج مِرے یار ہوئے پھرتے ہیں
دانیال رند
No comments:
Post a Comment