گھر سبھی زِندان ہو جائیں گے کیا
ہم یونہی بے جان ہو جائیں گے کیا
بارگاہِ عشق میں آئے بغیر
وحشی وہ انسان ہو جائیں گے کیا
ہم زرِ اُلفت لُٹاتے ہیں یونہی
ہم تہی دامان ہو جائیں گے کیا
خود کشی کرنے سے پہلے سوچ لو
مسئلے آسان ہو جائیں گے کیا
تیز ہوتی ہجر کی اس آگ میں
راکھ سب ارمان ہو جائیں گے کیا
غاصبانہ بیٹھ جائیں تخت پر
دل کے وہ سلطان ہو جائیں کیا
گھیر رکھا ہے خزاؤں نے سلیم
گلستاں ویران ہو جائیں گے کیا
سلیم رضا
No comments:
Post a Comment