آنسوؤ دم بہ دم نوکِ مژگاں ہو کیوں
میں پریشاں نہیں تم پریشاں ہو کیوں
کوچۂ درد میں حبس بڑھنے لگا
ابر کی طرح برسو گریزاں ہو کیوں
تم جلاتے رہے اور میں جلتی رہی
اب دھواں دیکھ کر اتنے حیراں ہو کیوں
نا ہی میں وہ رہی اور نہ تم وہ رہے
درد رہ بھی گیا تو درماں ہو کیوں
وہ کبھی اب پلٹ کر نہیں آئے گا
اور جو ممکن نہیں اس کا امکاں ہو کیوں
صدف زبیری
No comments:
Post a Comment