Sunday, 17 October 2021

پڑے ہیں مست بھی ساقی ایاغ کے نزدیک

 پڑے ہیں مست بھی ساقی ایاغ کے نزدیک

ہجوم پر ہیں پتنگے چراغ کے نزدیک

ہمارے اشک مٹاتے ہیں داغِ دل کی بہار

یہ آب شور کی نہریں ہیں باغ کے نزدیک

صفائی یار سے میلے میں ہو گئی اپنی

ملال دور ہوا عیشِ باغ کے نزدیک

وہ دل جلے ہیں کہ آئے مہر ٹھنڈا کرنے کو

ہوا نہ آ کے ہمارے چراغ کے نزدیک


مہر لکھنوی

No comments:

Post a Comment