اپنے لیے جیو
زندگی کا مقدر
نئے خواب ہیں
تم بھی درپن کو دل کے اجاگر جان لو
تم آج بھی خود کو پہچان لو
زیست جینا بھی ہے
زیست مرنا بھی ہے
تجربہ زہر ہے
اس کو پینا بھی ہے
دوسروں کے لیے
تم بھلا کیوں جیو
زہر پینا ہے گر
اپنی خاطر پیو
اپنے لیے جیو
نورجہاں ثروت
No comments:
Post a Comment