Thursday, 10 June 2021

پھر کوئی اپنی وفا کا واسطہ دینے لگا

 پھر کوئی اپنی وفا کا واسطہ دینے لگا

دور سے آواز مجھ کو حادثہ دینے لگا

طے کرو اپنا سفر تنہائیوں کی چھاؤں میں

بھیڑ میں کوئی تمہیں کیوں راستہ دینے لگا

راہزن ہی راہ کے پتھر اٹھا کر لے گئے

اب تو منزل کا پتا خود قافلہ دینے لگا

غربتوں کی آنچ میں جلنے سے کچھ حاصل نہ تھا

کیسے کیسے لطف دیکھو فاصلہ دینے لگا

شہر ناپرساں میں اے ثروت سبھی قاضی بنے

یعنی ہر نافہم اپنا فیصلہ دینے لگا


نورجہاں ثروت

No comments:

Post a Comment