Sunday, 4 December 2022

نسبت ہی کسی سے ہے نہ رکھتے ہیں حوالے

 نسبت ہی کسی سے ہے نہ رکھتے ہیں حوالے

ہاں ہم نے جلا ڈالے ہیں رشتوں کے قبالے

بے روح ہیں الفاظ کہیں بھی تو کہیں کیا

ہے کون جو معنی کے سمندر کو کھنگالے

جس سمت بھی جاؤں میں بکھر جانے کا ڈر ہے

اس خوف مسلسل سے مجھے کون نکالے

میں دشتِ تمنا میں بس اک بار گئی تھی

اس وقت سے رِستے ہیں مرے پاؤں کے چھالے

بے چہرہ سہی پھر بھی حقیقت ہے حقیقت

سکہ تو نہیں ہے جو کوئی اس کو اچھالے

ثروتؔ کو اندھیروں سے ڈرائے گا کوئی کیا

وہ ساتھ لیے آئی ہے قدموں کے اجالے


نورجہاں ثروت

No comments:

Post a Comment