کون تنہائی کا احساس دلاتا ہے مجھے
یہ بھرا شہر بھی تنہا نظر آتا ہے مجھے
جانے کس موڑ پہ کھو جائے اندھیرے میں کہیں
وہ تو خود سایہ ہے جو راہ دکھاتا ہے مجھے
وہ بھی پہچان نہ پایا مجھے اپنوں کی طرح
پھول بھی کہتا ہے پتھر بھی بتاتا ہے مجھے
اجنبی لگنے لگا ہے مجھے گھر کا آنگن
کیا کوئی شہرِ نگاراں سے بلاتا ہے مجھے
کسی بھی رُت میں مِری آس نہ ٹوٹی ثروت
ہر نیا جھونکا خلاؤں میں اُڑاتا ہے مجھے
نورجہاں ثروت
No comments:
Post a Comment