Sunday, 13 June 2021

کون تنہائی کا احساس دلاتا ہے مجھے

 کون تنہائی کا احساس دلاتا ہے مجھے

یہ بھرا شہر بھی تنہا نظر آتا ہے مجھے

جانے کس موڑ پہ کھو جائے اندھیرے میں کہیں

وہ تو خود سایہ ہے جو راہ دکھاتا ہے مجھے

وہ بھی پہچان نہ پایا مجھے اپنوں کی طرح

پھول بھی کہتا ہے پتھر بھی بتاتا ہے مجھے

اجنبی لگنے لگا ہے مجھے گھر کا آنگن

کیا کوئی شہرِ نگاراں سے بلاتا ہے مجھے

کسی بھی رُت میں مِری آس نہ ٹوٹی ثروت

ہر نیا جھونکا خلاؤں میں اُڑاتا ہے مجھے


نورجہاں ثروت

No comments:

Post a Comment