Sunday, 13 June 2021

کچھ ایسی ٹوٹ کے شہر جنوں کی یاد آئی

 کچھ ایسی ٹوٹ کے شہرِ جنوں کی یاد آئی

دُہائی دینے لگی آج میری تنہائی

گلے ملی ہیں کئی آ کے دلربا یادیں

کہیں یہ ہو نہ تِری شکل یاد فرمائی

کچھ اس قدر تھے سہم ناک حادثات حیات

کہ تاب دید نہ رکھتی تھی میری بینائی

سیہ کیے ہیں ورق میں نے اس توقع پر

کبھی تو ہو گی مِرے درد کی پذیرائی

بدن سے روگ نے کر لی مواقفت شاید

وہی ہے زخم مِرا اور وہی ہے گہرائی

علاج ڈھونڈھتا پھرتا ہوں دکھ کے نگری میں

مِری رسائی سے باہر ہوئی مسیحائی

اس اک نظر نے مجھے ڈھیر کر دیا شاہد

کسی بھی کام نہ آئی مِری توانائی


صدیق شاہد

No comments:

Post a Comment