وفا کی دھوپ کو سر پر سوار کرتے ہوئے
پگھل نہ جاؤ کہیں انتظار کرتے ہوئے
میں واعظہ کے فسانے سے خوب واقف تھا
سو لڑکھڑایا نہیں اعتبار کرتے ہوئے
کبھی خیال نہ آیا مجھے دُہائی کا
تمہارے ہجر کے دریا کو پار کرتے ہوئے
بھٹک نہ جائے کہیں قافلہ محبت کا
صراطِ حق کا سفر اختیار کرتے ہوئے
پھر اس کو صبر کا شربت پِلا دیا میں نے
وہ تھک گیا تھا مجھے شرمسار کرتے ہوئے
شہزاد صابر
No comments:
Post a Comment