Thursday, 11 March 2021

وفا کی دھوپ کو سر پر سوار کرتے ہوئے

 وفا کی دھوپ کو سر پر سوار کرتے ہوئے

پگھل نہ جاؤ کہیں انتظار کرتے ہوئے

میں واعظہ کے فسانے سے خوب واقف تھا

سو لڑکھڑایا نہیں اعتبار کرتے ہوئے

کبھی خیال نہ آیا مجھے دُہائی کا

تمہارے ہجر کے دریا کو پار کرتے ہوئے

بھٹک نہ جائے کہیں قافلہ محبت کا

صراطِ حق کا سفر اختیار کرتے ہوئے

پھر اس کو صبر کا شربت پِلا دیا میں نے

وہ تھک گیا تھا مجھے شرمسار کرتے ہوئے


شہزاد صابر

No comments:

Post a Comment