Tuesday, 1 June 2021

تمہارا ساتھ مجھے دو گھڑی میسر ہو

 تمہارا ساتھ مجھے دو گھڑی میسر ہو

بس ایک پل کو سہی زندگی میسر ہو

مِرے بدن کی اذیت تمام ہو جائے

جو تیرے لمس کی آسودگی میسر ہو

"اس ایک پل میں زمانہ گزار سکتی ہوں"

جس ایک پل تِری موجودگی میسر ہو

ہزار جان سے قربان جائے وہ ،جس کو

تِرا جمال، تِری دلکشی میسر ہو

ہر ایک شخص تِرے ہاتھ پہ کرے بیعت

تمام شہر کو دیوانگی میسر ہو

دکھاؤں گی تجھے عالم جنون خیزی کا

ذرا سی شوق کو آوارگی میسر ہو

عجیب ہوں کہ مجھے روشنی سے وحشت ہے

میں چاہتی ہوں مجھے تیرگی میسر ہو

یہ آگہی تو نہیں ہے کوئی اذیت ہے

خدا کرے نہ کسی کو کبھی میسر ہو

یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے عبادت کا

تجھے خدا تو مجھے بندگی میسر ہو


حنا کوثر

No comments:

Post a Comment