مرنے کو چھوڑ مر کے دِکھانا تو تھا مجھے
سچ کو تمہارے سامنے لانا تو تھا مجھے
اچھا ہوا جو تم سے ملاقات ہو گئی
یوں بھی کسی فریب میں آنا تو تھا مجھے
تیری طرف سے آپ ہی قسمیں اُٹھائی ہیں
خود کو کوئی یقین دلانا تو تھا مجھے
وہ آ گیا تو آنکھ میں آنسو بھی آ گئے
جلتا ہوا چراغ بجھانا تو تھا مجھے
اک اور کائنات کی تکمیل کر ہی لی
آخر تِرا وجود بنانا تو تھا مجھے
ساحر وہ رو پڑا مِری آنکھوں کو چُوم کر
جانا تھا اس لیے ہی منانا تو تھا مجھے
جہانزیب ساحر
No comments:
Post a Comment