Saturday, 3 June 2023

جان چھوٹے الجھنوں سے اپنی یہ قسمت نہیں

 جان چُھوٹے اُلجھنوں سے اپنی یہ قسمت نہیں 

موت بھی آئے تو مرنے کی مجھے فُرصت نہیں 

ہم عدو سے پوچھتے ہیں بزم میں آتا ہے کیوں 

آپ سے جھگڑا نہیں ہے، آپ سے حُجت نہیں 

درد کی صورت اُٹھا، آنسو کی صورت گر پڑا 

جب سے وہ ہمت نہیں کس بَل نہیں طاقت نہیں 

ایک ہیں نظروں میں شیخ و واعظ و پیرِ مُغاں 

تیرے مستوں کو کسی کے ہاتھ پر بیعت نہیں 

اور ہیں جن کو ہے خبط عشق حُوران جناں 

ہم کو سودائے ہوائے گُلشنِ جنت نہیں 

اس نے لکھا خط میں یہ شکوہ نہ کرنا جور کا 

ہم نے لکھ بھیجا ہے اتنا اپنی یہ عادت نہیں 

بسترِ راحت فقط انساں کو ہے اعمال خیر 

فرش مخمل بھی لحد میں ہو تو کچھ راحت نہیں 

شمع محفل میں رہا کرتی ہے بلبل باغ میں 

صاحب توقیر کی دیکھو کہاں عزت نہیں 

بڑھ رہا ہے درد دل آنکھوں میں پھرتی ہے اجل 

اے شبِ غم آج بچنے کی کوئی صورت نہیں 

بے کسوں کی کون سنتا ہے کہانی بعد مرگ 

کس گھڑی نالاں زبان سبزۂ تربت نہیں 

خانۂ کنج لحد میں کیا خموشی چھائی ہے 

کوئی اپنا کوئی مونس کوئی ہم صحبت نہیں 

رہتے ہیں ہر دم نمائش سے بری اہل کمال 

خود پسندی کی کبھی تصویر کو عادت نہیں 

شمع کل ہو گی نہ یہ چادر رہے گی پھول کی 

خانۂ کنج لحد منت کش زینت نہیں 

پیرویٔ بندش تسلیم گو کرتا ہوں عرش

پھر بھی معنی میں بلندی لفظ میں شوکت نہیں 


عرش گیاوی

No comments:

Post a Comment