بنجارے ہیں رشتوں کی تجارت نہیں کرتے
ہم لوگ دکھاوے کی محبت نہیں کرتے
ملنا ہے، آ جیت لے میداں میں ہم کو
ہم اپنے قبیلہ سے بغاوت نہیں کرتے
طوفاں سے لڑنے کا طریقہ ہے ضروری
ہم ڈوبنے والوں کی حمایت نہیں کرتے
کیوں بوجھ لیے بیٹھے ہو تم ذہن پہ اپنے ہم
لوگ تو دشمن سے بھی نفرت نہیں کرتے
پلکوں پہ ستارے ہیں نہ شبنم ہے نہ جگنو
اس طرح تو دشمن کو بھی رخصت نہیں کرتے
ہر سمت بڑے لوگوں کی ایک بھیڑ ہے نگہت
ہم اتنے خداؤں کی عبادت نہیں کرتے
نسیم نکہت
No comments:
Post a Comment