Saturday, 3 June 2023

اک عجب خوف مجھے سارے زمانے سے رہا

 اک عجب خوف مجھے سارے زمانے سے رہا

بس اسی خوف سے میں دل کو لگانے سے رہا

میرے چہرے کی اداسی سے سمجھ جاؤ مجھے

دل میں جو زخم ہیں وہ تو میں دکھانے سے رہا

صاحب تخت ملے تجھ کو تو کچھ بات بنے

میرے جیسا تو تِرے ناز اٹھانے سے رہا

چند پھولوں کو تِرے واسطے لایا ہوں کہ میں

چاند تاروں کو یہاں توڑ کے لانے سے رہا

پھر سبھی راز اسامہ کے عیاں ہونے لگے

جب تِرا نام سنا اشک چھپانے سے رہا


اسامہ گلزار

No comments:

Post a Comment