اک عجب خوف مجھے سارے زمانے سے رہا
بس اسی خوف سے میں دل کو لگانے سے رہا
میرے چہرے کی اداسی سے سمجھ جاؤ مجھے
دل میں جو زخم ہیں وہ تو میں دکھانے سے رہا
صاحب تخت ملے تجھ کو تو کچھ بات بنے
میرے جیسا تو تِرے ناز اٹھانے سے رہا
چند پھولوں کو تِرے واسطے لایا ہوں کہ میں
چاند تاروں کو یہاں توڑ کے لانے سے رہا
پھر سبھی راز اسامہ کے عیاں ہونے لگے
جب تِرا نام سنا اشک چھپانے سے رہا
اسامہ گلزار
No comments:
Post a Comment