کیا بتاؤں تجھے ہمدم؟ مِری حالت کیا ہے
تُو تو واقف ہے کہ اس شوخ کی عادت کیا ہے
ہائے وہ وصل کی شب دست درازی میری
اس کا کہنا کہ؛ ٹھہر جا! ابھی آفت کیا ہے
مجھ سے وہ کہتے ہیں انصاف سے تم ہی کہہ دو
زر نہ ہو پاس تو الفت کی ضرورت کیا ہے
لاکھوں عاشق ہیں زمانے میں، ہزاروں دلبر
آپ کو میری، مجھے آپ کی حاجت کیا ہے
ہم تو اس قول پہ کرتے ہیں عمل اے گستاخ
جو حسینوں میں نہ ہو صَرف وہ دولت کیا ہے
گستاخ رامپوری
No comments:
Post a Comment