موتی سے مسکرا کے ہر اک سُو بِکھیر دو
کالی اندھیری رات میں جگنو بکھیر دو
کھِلنے کا گر گلاب کے موسم چلا گیا
تم بھی تو ایک پھول ہو خوشبو بکھیر دو
دعوت گھٹا کو دو کہ بہت گرم ہے ہوا
آنچل ہٹا کے دوش سے گیسو بکھیر دو
اب وہ شفق میں رنگ نہ وہ شام میں کشش
ہونٹوں کی سرخیوں کو لبِ جُو بکھیر دو
چہرے کے ماہتاب میں سمٹی ہوئی ہے کیوں
اس چاندنی کو اب سَرِ زانو بکھیر دو
اب ضبط و احتیاط کا کیا کام ہے شکیل
دامن پہ اس کے آج تو آنسو بکھیر دو
اطہر شکیل
No comments:
Post a Comment