محبتیں بھی کڑا امتحان ہیں صاحب
ہمارے حوصلے لیکن چٹان ہیں صاحب
جسے بھی چاہو اسی پل شکار کر ڈالو
تمہارے ہاتھ میں تیر و کمان ہیں صاحب
تھکن سے ہار نہ جائیں کہیں یہ پنچھی بھی
جو آج شوق سے محوِ اُڑان ہیں صاحب
یہ مت سمجھنا ہمیں بولنا نہیں آتا
تمہارے سامنے پر بے زبان ہیں صاحب
بدل نہ ڈالیں تمہارے تمام وعدوں کو
جو لمحہ لمحہ بدلتے بیان ہیں صاحب
فسانہ جان کے یوں سرسری نہ دیکھ ادھر
ہم اپنے آپ میں اک داستان ہیں صاحب
ثناء احمد
No comments:
Post a Comment