Thursday, 5 August 2021

جادۂ فن میں بڑے سخت مقام آتے ہیں

 جادۂ فن میں بڑے سخت مقام آتے ہیں

مر کے رہ جاتا ہے فنکار امر ہونے تک

کتنے غالب تھے کہ پیدا ہوئے اور مر بھی گئے

قدر دانوں کو تخلص کی خبر ہونے تک

کتنے اقبال رہِ فکر میں اٹھے، لیکن

راستہ بھول گئے ختمِ سفر ہونے تک

کتنے شبیر حسن خان بنے جوش کبھی

مر گئے کتنے سکندر بھی جگر ہونے تک

فیض کا رنگ بھی اشعار میں آ سکتا تھا

انگلیاں ساتھ تو دیں خون میں تر ہونے تک

ہم نے دیکھے ہی کہاں ہیں وہ ندیم اور فراق

جو بہر رنگ نہ جل پائے سحر ہونے تک

چند ذروں کو ہی ملتی ہے ضیائے خورشید

چند تارے ہی چمکتے ہیں سحر ہونے تک

دلِ شاعر پہ کچھ ایسی ہی گزرتی ہے فگار

جو کسی قطرے پہ گزرے ہے گہر ہونے تک


دلاور فگار

No comments:

Post a Comment