Wednesday, 14 September 2022

فضول وقت سمجھ کے گزار کر مجھ کو

 فضول وقت سمجھ کے گُزار کر مجھ کو

وہ جا رہا ہے کہیں دُور مار کر مجھ کو

تلاش مجھ کو ہے اس چاہتوں کی دیوی کی

جو چُھپ گئی ہے ہمیشہ پُکار کر مجھ کو

تمام عمر تِرے انتظار میں ہمدم

خزاں رسیدہ رہا ہوں بہار کر مجھ کو

تِرا خلوص تو چہرے بدلتا رہتا ہے

کہ ایک پَل کو ہی اپنا شمار کر مجھ کو

ندیم! اس کا پرانا لباس ہوں شاید

وہ لگ رہا ہے بہت خوش اُتار کر مجھ کو


ندیم گلانی

No comments:

Post a Comment