بس چیختا تھا اور یہی میرے بس میں تھا
میں ایک لمبی قید کے پہلے برس میں تھا
اک کام چاہ کر بھی نہیں ہو سکا تو پھر
وہ بھی نہیں کیا جو مِری دسترس میں تھا
کچھ دن تو مسئلہ رہے گا سانس کا مجھے
میں کچھ دنوں سے حالتِ ضبطِ نفس میں تھا
کچھ لوگ در بدر کیے جانے تھے شہر میں
میں بھی کیا گیا کہ میں پہلے ہی دس میں تھا
بس سے اتر گیا تو کھڑا سوچتا ہوں میں
کیا کیا تھا میرے بس میں اور کیا کیا نہ بس میں تھا
اک نس کٹی تو مجھ پہ حقیقت ہوئی عیاں
اک عمر کا بہاؤ فقط ایک نس میں تھا
اک شخص سے میں ان دنوں گویا ہوا ہوں خوب
بالکل انہی دنوں میں کہ جب میں قفس میں تھا
عثمان سکندر
No comments:
Post a Comment