Thursday, 4 August 2022

بس چیختا تھا اور یہی میرے بس میں تھا

 بس چیختا تھا اور یہی میرے بس میں تھا

میں ایک لمبی قید کے پہلے برس میں تھا

اک کام چاہ کر بھی نہیں ہو سکا تو پھر

وہ بھی نہیں کیا جو مِری دسترس میں تھا

کچھ دن تو مسئلہ رہے گا سانس کا مجھے

میں کچھ دنوں سے حالتِ ضبطِ نفس میں تھا

کچھ لوگ در بدر کیے جانے تھے شہر میں

میں بھی کیا گیا کہ میں پہلے ہی دس میں تھا

بس سے اتر گیا تو کھڑا سوچتا ہوں میں

کیا کیا تھا میرے بس میں اور کیا کیا نہ بس میں تھا

اک نس کٹی تو مجھ پہ حقیقت ہوئی عیاں 

اک عمر کا بہاؤ فقط ایک نس میں تھا

اک شخص سے میں ان دنوں گویا ہوا ہوں خوب

بالکل انہی دنوں میں کہ جب میں قفس میں تھا


عثمان سکندر

No comments:

Post a Comment