Monday, 22 March 2021

اک پل میں کیا کچھ بدل گیا جب بے خبروں کو خبر ہوئی

 اک پل میں کیا کچھ بدل گیا جب بے خبروں کو خبر ہوئی

میں تنہائی میں چھپا رہا جب مجھ پر اس کی نظر ہوئی

اک چاند چمک کر چلا گیا پھر کتنی گھڑیاں گزر گئیں

مجھ کو تو کچھ بھی خبر نہ تھی کب رات ہوئی کب سحر ہوئی

تھی حسن کی چھَب اک عجب ادا جب پھول سا چہرہ مہک اٹھا

وہ منظر مجھ کو جچا بہت پھر عمر اسی میں بسر ہوئی

آنا بھی تیرا غضب ہوا، اس شہر کا منظر بدل گیا

بھونچال سا آیا گلی گلی ہر چیز اِدھر سے اُدھر ہوئی

یہ روگ لگا ہے عجب ہمیں جو جان بھی لے کر ٹلا نہیں

ہر ایک دوا بے اثر گئی، ہر ایک دعا بے اثر ہوئی


اشفاق عامر

No comments:

Post a Comment