Wednesday, 8 December 2021

اے خدا بھرم رکھنا برقرار اس گھر کا

 اے خدا بھرم رکھنا برقرار اس گھر کا

ہے تِرے کرم پر ہی انحصار اس گھر کا

ہر کواڑ ڈوبا ہے بے کراں اداسی میں

اور ہر دریچہ ہی سوگوار اس گھر کا

پھیلتی چلی جائے بیل بدگمانی کی

ختم ہی نہیں ہوتا انتشار اس گھر کا

اس جہاں میں ہو گا بے عمل نہ ہم جیسا

ہم نہ رکھ سکے قائم اعتبار اس گھر کا

کس قدر گناہوں کے مرتکب ہوئے ہیں ہم

جو سکون لٹتا ہے بار بار اس گھر کا

گرد بے یقینی کی گر سمیٹ لیں مل کر

معتبر گھروں میں ہو پھر شمار اس گھر کا

جان سے گزرنے کا حوصلہ عطا کر دے

اب مکیں نہ ہو کوئی شرمسار اس گھر کا


اکرام مجیب

No comments:

Post a Comment