Sunday, 12 December 2021

اور ہی کہیں ٹھہرے اور ہی کہیں پہنچے

 اور ہی کہیں ٹھہرے اور ہی کہیں پہنچے

جس جگہ پہنچنا تھا ہم وہاں نہیں پہنچے

ہجر کی مسافت میں ساتھ تو رہا ہر دم

دور ہو گئے تجھ سے جب تِرے قریں پہنچے

طائرِ طلب کی ہے ہر اڑان اس در تک

نا مراد دل کا ہر راستہ وہیں پہنچے

رخ کرے ادھر کا ہی ہر عذاب دنیا کا

آسماں سے جو اترے وہ بلا یہیں پہنچے

ہر دل و نظر میں ہو اک نکھار سا پیدا

بد گمان ذہنوں تک نعمت یقیں پہنچے


اکرام مجیب

No comments:

Post a Comment