ان سے بھی کہاں میری حمایت میں ہِلا سر
کہتے تھے جو ہر بات پہ حاضر ہے مِرا سر
ہاں یہ ہے کہ آہستہ کلامی کا ہوں مجرم
خاموش مزاجی تو ہے الزام سرا سر
جس روز سے آیا ہے یہ قاتل کی نظر میں
اس روز سے جھکنے کی ادا بھول گیا سر
غیرت کے مقابل تھی ضرورت بھی ہوس بھی
یہ معرکہ مشکل تھا، مگر ہم نے کِیا سر
اک روز اک انساں نے مجھے کہہ دیا انساں
اس روز بہت دیر نہ سجدے سے اٹھا سر
عقیل نعمانی
No comments:
Post a Comment